اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اردن کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ عمان میں ایرانی سفارت خانے کے ناظم الامور کو طلب کر کے انہیں اردن کا احتجاج تہران تک پہنچانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ وزارت نے ایران سے منسوب حملوں کو فوری طور پر روکنے ایرانی حکام کے مبینہ "اشتعال انگیز بیانات" کا سلسلہ بند کرنے پر زور دیا۔
وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ ایران سے منسوب حملے اردن کی خودمختاری، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی ہیں۔ بیان میں خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن ممالک پر حملوں کی بھی مذمت کرتے ہوئے ان ممالک کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا گیا۔
دریں اثنا، اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی نے ترکی، قطر، سعودی عرب، کویت اور بحرین کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ ٹیلیفونک رابطے کیے، جن میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اردنی وزارتِ خارجہ کے مطابق، رابطوں کے دوران فریقین نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی پر عمل درآمد، مذاکرات کی بحالی، کشیدگی میں کمی اور بین الاقوامی قانون کے مطابق آبنائے ہرمز میں جہازرانی کی آزادی یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اردن اپنی قومی سلامتی، خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔
آپ کا تبصرہ